Showing posts with label good governance. Show all posts
Showing posts with label good governance. Show all posts

Monday, 23 November 2015

Search operation or drama to show good governance!

Search operation or drama to show good governance!

973731-arrested_x-1444971172-265-640x480
General Raheel Shrief had said few days ago that “good governance is required for extra ordinary results in war against terrorism”. Now the government is on its toe and has conducting combine military and police search operation in specified areas of the country unveil the terrorist or to show drama of good governance to common public.
Today, Monday dated on 23-11-2015 huge numbers of the personnel from police, army and rescue 1122 has conducted combine search operation in Tehsil TAUNSA district Dera Gazi Khan to search the specified places and to show the strength to maintain law and order situation in Taunsa and its premises.
IMG-20151123-WA0036
Taunsa is sensitive because it has 80 km lengthy border with tribal areas and its population has close blood relation in and outside of Pakistan and Afghanistan border. Due to this family attachments and its effects in Taunsa 35 police,5 army and two rescue 1122 vehicles with above than 100 hundred employees has participated. Neither the search operation has delivered successful results nor can it show drama of good governance that can impress street man.
During very early hours of this morning a rumor spread out in the city that combine military and police search operation is about to conduct in northern areas of Taunsa Tehsil after receiving intelligence reports about facilitators, terrorist and extremist from agencies. Agencies are burning oils till the mid nights after inhuman suicide blast in campaign office of Sardar Amjad Farooq Khaosa office which has had killed 7 candidate of local body election one month before. It is rural area which is divided in communities, having links roads and vast land of crops of cotton and sugar how does it would possible to find out the single machine from a house.
IMG-20151123-WA0043
Approximately every 10th house from these communities has possessed illegal weapons not only for personal safety but large numbers from their population have adopted smuggling of weapons and non customs high speed vehicles as a profession. Search operation in these areas, in true sense is not a child job but on the account of this search operation peoples will have to bury the weapons with their profession for a short term.
Locations of extremist, terrorists and their facilitators will have to change with the spread of this search operation as it has scattered population while western side is tribal. Search operation should be kept secret and it should be started from the top level because breaking of plans, repots and operation before their conduction has helped them to change their terroristic   appliances.
55c2e6407ed5c
We as citizen of Pakistan salute to soldiers of army, police and rescue 1122 for their honest participation in search operation against the terrorists and crimes and criminal but it should kept secret especially before its conduction in rural areas.


Thursday, 12 November 2015

Pakistan Army and Nawaz Shrief

’راحیل شریف کا موڈ اچھا رکھنے کی ڈیوٹی‘

Pakistan Army and Nawaz Shrief

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی امریکہ روانگی سے پانچ روز پہلے ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس (دس نومبر) کی جو تفصیلات فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ نے جاری کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوج دہشت گردی کے تدارک کے لیے اپنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رفتار سے خوش نہیں۔
فوجی قیادت نے زور دیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے حاصل ہونے والی کامیابیاں برقرار رکھنے کے لیے سویلین سائیڈ سے بھی ہم پلہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

آپریشن کے بھرپور نتائج کے لیےگورننس بہتر کی جائے: آرمی چیف

فوجی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے ڈھانچے میں اصلاحات کی رفتار تیز کی جائے اور دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں اپنا کام ترجیحاتی بنیاد پر مکمل کریں۔
اطلاعات کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کور کمانڈر اجلاس سے قبل یہ تحفظات وزیرِ اعظم نواز شریف کے سامنے بھی رکھے۔ پھر بھی واضح نہیں کہ ان تحفظات کو پریس ریلیز کے ذریعے عام کرنے کا سبب کیا ہے؟
جہاں تک نیشنل ایکشن پلان پر سست رفتاری سے عمل درآمد کا معاملہ ہے تو فوج کا یہ دیرینہ شکوہ دور کرنے کے لیے کہ اسے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے بھرپور سیاسی حمایت درکار ہے گذشتہ فروری میں سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ نے فوج کو دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے مکمل مینڈیٹ دیا۔
پارلیمنٹ نے تحفظات کے باوجود فوجی عدالتوں کا قیام بھی منظور کر لیا۔ کراچی میں جرم اور سیاست کا گٹھ جوڑ توڑنے کے لیے فوج اور رینجرز نے جو بھی اقدامات مناسب سمجھے کیے۔ متذبذب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت اہم سیاسی جماعتوں اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کی اصولی حمایت بھی برقرار ہے۔

Pakistan Army and Nawaz Shrief

 
Image captionلگ بھگ 20 لاکھ قبائلی پچھلے چھ برس کے دوران ان آپریشنز کے سبب در بدر ہوئے ہیں

جہاں تک یہ مطالبہ ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں دہشت گردی کے ملزموں سے پوچھ تاچھ کا کام تیزی سے مکمل کریں تو یہ مطالبہ اس لیے عجیب لگتا ہے کہ ان ٹیموں میں پولیس کے علاوہ فوج کی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ مزید براں صوبائی حکومتیں وفاقی وزارتِ داخلہ کے توسط سے ’جیٹ بلیک‘ دہشت گردوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو ارسال کر رہی ہیں۔ پھر بھی سست رفتاری محسوس ہو رہی ہے تو اس کا تدارک کسی ایک فریق کی زمہ داری ہے یا مشترکہ ذمہ داری؟
دہشت گردی کو جہاں جہاں سے مالیاتی آ کسیجن ملتی ہے اس کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلیجینس اداروں کے علاوہ نیب اور ایف آئی اے بھی پہلے سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔
جہاں تک فاٹا میں اصلاحات کا معاملہ ہے تو فوج کی جانب سے اس بارے میں سست رفتاری پر تحفظ جائز معلوم ہوتا ہے۔اس وقت ایک 19 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے فاٹا میں انتظامی و سیاسی اصلاحات سے متعلق گیارہ نکاتی سفارشات حکومت کے پاس پڑی ہیں۔پارلیمنٹ میں اس بابت دو بل بھی بحث و منظوری کے منتظر ہیں۔
مگر آئین کے آرٹیکل247 میں ترمیم کیے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس آرٹیکل کے تحت فاٹا سے متعلق قانون سازی کا اختیارِ صدرِ مملکت کو حاصل ہے۔ فاٹا پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہِ اختیار سے بھی باہر ہے اور پولٹیکل ایجنٹ ہی یہاں مدعی بھی ہے اور منصف بھی۔
اس وقت قبائیلی ایجنسیوں میں دہشت گردی کے خلاف یا تو آپریشن جاری ہے یا کچھ ایجنسیاں بعد از آپریشن بحالی کے مرحلے میں ہیں۔
لگ بھگ 20 لاکھ قبائلی پچھلے چھ برس کے دوران ان آپریشنز کے سبب در بدر ہوئے ہیں۔کور کمانڈر اجلاس نے لاکھوں متاثرین کی ترجیحی بحالی و واپسی کا بھی عہد کیا۔عین ممکن ہے کہ فوج کی جانب سے تازہ تحفظات کے کھلے عام اظہار سے اب فاٹا اصلاحات کی فائیل کو پہئیے لگ جائیں
Pakistan Army and Nawaz Shrief
یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ جب امریکہ پاکستانی فوجی قیادت سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا ہے تو جواب ملتا ہے اور کتنا ’ڈو مور‘ کریں۔ لیکن جس سویلین حکومت سے اب فوج ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کر رہی ہے کیا واقعی اس حکومت کے پاس ’ڈو مور‘ کی گنجائش بچی ہے؟ اس کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ حکومت کو اپنے آئینی و اختیاراتی بازو اور ٹانگیں پھیلانے کے لیے آج کتنی جگہ میسر ہے۔
تصویر یوں بن رہی ہے گویا ریاست کے سکوٹر پر نواز شریف راحیل شریف کے پیچھے بیٹھے ہیں۔
بطور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سرتاج عزیز کی جگہ جنرل ناصر جنجوعہ کی ہنگامی تقرری ہو، نیشنل سیکورٹی پلان پر آپریشنل عمل درآمد ہو، بلوچستان کے بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ہو، کراچی آپریشن کی شدت گھٹانے بڑھانے کا اختیار ہو، افغان امور سلٹانے کا سوال ہو، بھارت سے تعلقات کی نہج طے کرنے کا معاملہ ہو، روس اور چین سے سٹرٹیجک تعاون کو اپ گریڈ کرنے کا ٹاسک ہو کہ سعودی عرب سے تعاون کی حدود طے کرنے کا اختیار، کم ازکم جوہری توازن برقرار رکھنے کا نظریہ ہو کہ امریکہ سے فوجی و علاقائی ساجھے داری کی مقدار طے کرنے کی تمنا۔ تمام معاملات طے کرنے کے لیے سویلین حکومت آج کتنی بااختیار ہے؟ ( یہ بحث اپنی جگہ کہ یہ اختیارات سویلین حکومت نے خود چھوڑے یا طرح طرح سے مرحلہ وار چھڑائے گئے )۔
فوجی قیادت کو اس پے بھی تو تحفظات ہونے چاہئیں کہ ڈھائی برس بعد بھی نواز شریف کو ایک کل وقتی وزیرِ خارجہ کیوں نہیں مل سکا؟ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سویلین عدالتی نظام کو جدید اور موثر بنانے میں کیا رکاوٹ ہے تاکہ دو برس بعد فوجی عدالتوں کی معیاد میں توسیع کی ضرورت نہ پڑے۔ الیکشن کمیشن کیوں با اختیار نہیں بنایا جا رہا اور انتخابی اصلاحات کب تک مکمل ہوں گی؟ اچھے اور برے دہشت گردوں میں تمیز ختم کرنے کے عہد پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے؟
ہو سکتا ہے فوجی قیادت نے فی الوقت اپنی تحفظاتی لسٹ اس لیے مختصر رکھی ہو کہ جس حکومت کے وزیر آپس میں ہی گھتم گھتا ہوں اور جہاں وزیرِ داخلہ ( نثار علی ) سینہ ٹھونک کے کہیں کہ میں جی ایچ کیو سے براہ ِراست رابطے کے لیے وزیرِ دفاع (خواجہ آصف) کا محتاج نہیں۔ ایسی حکومت پر اور کتنا دباؤ ڈالنا۔
Pakistan Army and Nawaz Shrief

adds